نئی دہلی، 28؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے ایک اور معاملے میں مرکزی حکومت کو جھٹکا دیا ہے۔ اس مرتبہ معاملہ پیگاسس جاسوسی کا تھا جس میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر مرکزی حکومت کی سرزنش کی ، اسے سخت سست کہا اور پھر مرکز کی کوئی بات نہ مانتے ہوئے اس جاسوسی کی تفتیش کے احکامات جاری کردئیے۔ عدالت نے جانچ کے لئے ماہرین کی کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملہ میں مرکز کا رخ واضح نہیں ہے۔ اس رازداری کی خلاف ورزی کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس این وی رامنا نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق کی پامالی سے بچانے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ رازداری صرف صحافیوں اور لیڈران کا ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کا بھی حق ہے۔ ہمارے سامنے پیش کی گئی عرضیوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا استعمال کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ پریس کی آزادی اہم ہے جو کہ جمہوریت کا اہم ستون ہے، نیز صحافیوں کے ذرائع کی حفاظت بھی ضروری ہے۔اسی لئے یہ احکامات جاری کئے جارہے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملہ میں کئی رپورٹس تھیں جن پر غور کیا گیا اور پھر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب بھی طلب کیا گیا ۔ حالانکہ سالیسٹر جنرل نے ایسی عرضیوں کو حقائق سے دور اور غلط ذہنیت پر مبنی قرار دیا تھا لیکن عدالت نے مرکز کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور کہا کہ قومی سلامتی کا بہانہ بناکر حکومت کو ہر مرتبہ ’فری پاس‘ نہیں مل سکتا۔ عدالتی جائزہ پر کوئی پابندی نہیں ہے، مرکز کو یہاں اپنے موقف کو صحیح ٹھہرانے کے لئے ناقابل تردید حقائق پیش کرنے چاہئے تھے۔ عدالت کو خاموش تماشائی بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ مرکز کو بار بار مواقع فراہم کرنے کے باوجود انہوں نے محدود حلف نامہ دیا جو واضح نہیں تھا۔ اگر انہوں نے حقائق کو واضح کیا ہوتا تو ہم زیادہ بہتر طریقے سے اس معاملے کو سمجھ پاتے ۔اسی وجہ سے ا ب ہمیں جانچ کے احکامات جاری کرنے پڑرہے ہیں۔
چیف جسٹس این وی رامنا ، جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر وی رویندرن، سابق آئی پی ایس افسران آلوک جوشی اور سندیپ اوبرائے کی سربراہی میں سائبر اور فارینسک ماہرین کی تین رکنی ٹیکنیکل کمیٹی کو تفتیش کا حکم دے دیا ہے ۔ واضح رہے کہ آلوک جوشی۷۶ء بیچ کے آئی پی ایس افسرہیں جبکہ ڈاکٹر اوبرائے چیئرمین سب کمیٹی (انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف اسٹینڈر ڈائزیشن ) ہیں۔ یہ کمیٹی آئندہ ۸؍ ہفتوں میں اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گی۔بنچ نے کہا ہے کہ ٹیکنیکل کمیٹی کے رکن کے طور پر آئی آئی ٹی بامبے کے پروفیسر ڈاکٹر اشونی انل کے علاوہ ڈاکٹر نوین کمار اور ڈاکٹر پربھاہرن ہوں گے۔ڈاکٹر چودھری (سائبر سیکوریٹی ایکسپرٹ) ہیں جبکہ ڈاکٹر اشونی انل گُمستے،اسوسی ایٹ پروفیسر برائے کمپیوٹر سائنس ہیں۔
سپریم کورٹ نےکہاکہ ملک کے شہریوں کے حق رازداری (پرائیویسی) کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ ان کی آزادی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے میں آٹھ ہفتے بعد شنوائی کرے گا۔ دریں اثناء کمیٹی کو عبوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے پیگاسس جاسوسی کیس میں مختلف مفاد عامہ کی عرضیوں کی سماعت مکمل کرنے کے بعد۱۳؍ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔یہ مقدمہ ایک پرائیویٹ اسرائیلی کمپنی کے اسپائی ویئر سافٹ ویئر سے ملک کے معروف صحافیوں، وکلاء، کئی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے فون کی جاسوسی سے متعلق ہے۔